How to use this calculator — Watch Demo Video ▶
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
درود شریف

اسلامی کیلکولیٹر

فقہِ حنفی کی روشنی میں میراث و زکوٰۃ کا حساب

علامہ طاہر مدنی
علامہ طاہر مدنی
مزید علمی ویڈیوز اور بیانات کے لیے آفیشل پیجز کو فالو کریں

اسلامی اصولِ فرائض کے مطابق ترکہ کی تقسیم — اصحابِ فرائض، عصبات اور ذوی الارحام سمیت

۱ ترکہ اور میت

کنال
+
مرلہ (مثلاً 9.18)
1 کنال = 20 مرلہ — زمین نہ ہو تو خالی چھوڑ دیں
یہ مال میت کے کفن دفن کے ضروری اخراجات (سوائے زوجہ کے کفن دفن کے) ، قرض، اور وصیت (زیادہ سے زیادہ ایک تہائی) نکالنے کے بعد جو مال بچے وہ ہونا چاہیے۔ اسی باقی ماندہ مال پر میراث تقسیم ہوتی ہے۔

مثال: میت نے کُل مال (سونا، چاندی، کرنسی، جائیداد، کپڑے، موبائل، سامان، مکان، دکان وغیرہ) 1 کروڑ کی مالیت کا چھوڑا، تجہیز و تکفین میں 50 ہزار لگے جو میت کے مال سے ادا کیے گئے (اگر اولاد نے اپنی طرف سے تجہیز و تکفین کا خرچہ کیا تو یہ منہا نہیں ہوں گے)، میت پر قرضہ 15 لاکھ تھا، اور میت نے 4.5 لاکھ کی جائز وصیت کی تھی — تو اب اوپر خانے میں 80 لاکھ کی رقم لکھیں گے (1 کروڑ کل مال − 50 ہزار کفن دفن − 15 لاکھ قرضہ − 4.5 لاکھ وصیت = 80 لاکھ بقیہ مال جو ورثاء میں تقسیم ہوگا)۔

۲ ورثاء کا انتخاب

جو رشتہ دار میت کے انتقال کے وقت زندہ تھے انہیں آن کریں اور انکی تعداد لکھیں (میت کے انتقال کے بعد فوت ہونے والے ورثاء کا حصہ بھی بنتا ہے جو انکے اپنے ورثاء میں تقسیم ہوگا)۔

نوٹ:
۱) صرف مسلمان ورثاء کی تفصیل ڈالیں کیونکہ غیر مسلم، مسلم کا وارث نہیں بنتا۔

۲) شوہر کا انتقال ہوا اور بیوی حاملہ ہو تو اس حمل کا بھی حصہ بنتا ہے۔ حمل کی وراثت والا مسئلہ معلوم کرنے کے لیے مستند مفتی صاحب سے رجوع کریں۔ یہ کیلکولیٹر حمل کی صورتوں کا حساب نہیں کرتا۔
⚠️ نوٹ: یہ کیلکولیٹر عمومی رہنمائی کے لیے ہے۔ ترکہ (میّت کا کُل مال) تقسیم کرنے سے پہلے اس کیلکولیٹر کے نتائج کو احتیاطاً کسی مستند مفتی صاحب سے تصدیق کروا لیں۔ آسانی کے لیے نیچے دیے گئے مفتی عبدالصمد صاحب کے نمبر پر بھی تصدیق کروائی جا سکتی ہے:
📞 +92-322-3427466
🟢 واٹس ایپ پر پیغام بھیجیں

تقسیمِ ترکہ

وارثحصے (سہام)فیصدرقم
⚠️ نوٹ: یہ کیلکولیٹر عمومی رہنمائی کے لیے ہے۔ ترکہ (میّت کا کُل مال) تقسیم کرنے سے پہلے اس کیلکولیٹر کے نتائج کو احتیاطاً کسی مستند مفتی صاحب سے تصدیق کروا لیں۔ آسانی کے لیے نیچے دیے گئے مفتی عبدالصمد صاحب کے نمبر پر بھی تصدیق کروائی جا سکتی ہے:
📞 +92-322-3427466
🟢 واٹس ایپ پر پیغام بھیجیں

فقہِ حنفی کے مطابق زکوٰۃ کا حساب — نقدی، سونا، چاندی، مالِ تجارت اور قرض سمیت

۱ نصاب کی قیمتیں

جس دن آپ کا زکوٰۃ کا سال (قمری) مکمل ہوا، اُس دن کے مطابق فی تولہ سونے اور چاندی کی قیمت لکھیں (روپے میں)۔ نصاب انہی سے شمار ہوگا۔

نصاب: سونا ساڑھے سات (7.5) تولہ، چاندی ساڑھے باون (52.5) تولہ۔ اگر کسی کے پاس سونا یا چاندی کے ساتھ نقدی یا مالِ تجارت بھی ہو، تو چاندی کے نصاب کا اعتبار ہوتا ہے (یہ غریب کے حق میں بہتر ہے)۔ زکوٰۃ کی شرح چالیسواں حصہ یعنی 2.5% ہے۔

۲ سونا و چاندی

ہر قسم کا سونا و چاندی (زیورِ استعمال سمیت)۔

زیور، سکے، بسکٹ — خواہ استعمال میں ہو یا نہ ہو
زیور، برتن، سکے

۳ نقدی و کرنسی (روپے)

مقامی و غیر ملکی کرنسی، قمری سال مکمل ہونے کی تاریخ کے ریٹ کے مطابق۔ (سود کی رقم شامل نہ کریں۔)

مقامی و غیر ملکی نقدی، قمری سال مکمل ہونے کی تاریخ کے ریٹ پر
بینک بیلنس (سود کی رقم نکال کر)
پرائز بانڈز کی مالیت
اس کی زکوٰۃ ادا کرنا فوراً واجب نہیں — چاہیں تو فوراً ادا کر دیں، یا جب یہ رقم واپس ملے (یا نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو) تب ادا کریں۔ وصول ہونے پر ادا کرنے کی صورت میں پچھلے تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
کمیٹی/بی سی میں آپ کی جمع شدہ رقم (جو ابھی آپ کو نہیں ملی)۔ اس کی زکوٰۃ ادا کرنا فوراً واجب نہیں — چاہیں تو فوراً ادا کر دیں، یا جب یہ رقم واپس ملے (یا نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو) تب ادا کریں۔ وصول ہونے پر ادا کرنے کی صورت میں پچھلے تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
جو قرض آپ نے دوسروں کو دیا اور واپسی کی امید ہو، یا آپ کے پاس قرض کے گواہ ہوں۔ اس کی زکوٰۃ ادا کرنا فوراً واجب نہیں — چاہیں تو فوراً ادا کر دیں، یا جب یہ رقم واپس ملے (یا نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو) تب ادا کریں۔ وصول ہونے پر ادا کرنے کی صورت میں پچھلے تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔

۴ مالِ تجارت (روپے)

وہ سامان جو خالصتاً بیچنے کی نیت سے خریدا یا بنایا ہو، قمری سال مکمل ہونے کی تاریخ کی بازاری قیمت پر۔

فیکٹری/کاروبار کا خام مال (raw material) — قمری سال مکمل ہونے کی تاریخ کے ریٹ پر
تیار شدہ مال، دکان کا اسٹاک — قمری سال مکمل ہونے کی تاریخ کے ریٹ پر
وہ پراپرٹی جو بیچنے (تجارت) کی نیت سے خریدی ہو — قمری سال مکمل ہونے کی تاریخ کے ریٹ پر
شراکت (پارٹنرشپ) میں آپ کے حصے کے قابلِ زکوٰۃ اثاثے

۵ واجبات (منہا ہوں گے)

وہ رقمیں جو آپ کے ذمہ واجب الادا ہیں — یہ کل مال سے نکال دی جائیں گی۔

لیا ہوا قرض جو واپس کرنا ہے
مکان/دکان/چیزوں کی وہ قسطیں جو ذمہ واجب ہیں
اگر کمیٹی کی پوری رقم وصول کر چکے ہیں تو جو اقساط باقی دینی ہیں
وہ بل جو سالِ زکوٰۃ مکمل ہونے سے پہلے آ چکے ہوں
کاروبار میں ڈیلرز/سپلائرز کو دینے والی رقم
ملازمین کی وہ تنخواہیں جو ذمہ واجب ہیں
گزشتہ سال کی وہ زکوٰۃ جو ابھی ادا نہیں ہوئی

زکوٰۃ کا حساب

تفصیلمالیت (روپے)
⚠️ نوٹ: یہ کیلکولیٹر عمومی رہنمائی کے لیے ہے۔ ترکہ (میّت کا کُل مال) تقسیم کرنے سے پہلے اس کیلکولیٹر کے نتائج کو احتیاطاً کسی مستند مفتی صاحب سے تصدیق کروا لیں۔ آسانی کے لیے نیچے دیے گئے مفتی عبدالصمد صاحب کے نمبر پر بھی تصدیق کروائی جا سکتی ہے:
📞 +92-322-3427466
🟢 واٹس ایپ پر پیغام بھیجیں