فقہِ حنفی کی روشنی میں میراث و زکوٰۃ کا حساب
اسلامی اصولِ فرائض کے مطابق ترکہ کی تقسیم — اصحابِ فرائض، عصبات اور ذوی الارحام سمیت
کل جائیداد وہ رقم ہے جو تجہیز و تکفین، قرض اور وصیت (ثلث تک) نکالنے کے بعد بچے۔
جو رشتہ دار میت کے انتقال کے وقت زندہ تھے انہیں آن کریں اور تعداد لکھیں (بعد میں فوت ہونے والے وارث کا حصہ بھی نکلتا ہے)۔ محجوب (محروم) رشتہ داروں کا حساب خودکار ہوگا۔
| وارث | حصے (سہام) | فیصد | رقم |
|---|
فقہِ حنفی کے مطابق زکوٰۃ کا حساب — نقدی، سونا، چاندی، مالِ تجارت اور قرض سمیت
جس دن آپ کا زکوٰۃ کا سال (قمری) مکمل ہوا، اُس دن کے مطابق فی تولہ سونے اور چاندی کی قیمت لکھیں (روپے میں)۔ نصاب انہی سے شمار ہوگا۔
ہر قسم کا سونا و چاندی (زیورِ استعمال سمیت)۔
مقامی و غیر ملکی کرنسی، قمری سال مکمل ہونے کی تاریخ کے ریٹ کے مطابق۔ (سود کی رقم شامل نہ کریں۔)
وہ سامان جو خالصتاً بیچنے کی نیت سے خریدا یا بنایا ہو، قمری سال مکمل ہونے کی تاریخ کی بازاری قیمت پر۔
وہ رقمیں جو آپ کے ذمہ واجب الادا ہیں — یہ کل مال سے نکال دی جائیں گی۔
| تفصیل | مالیت (روپے) |
|---|