بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
درود شریف

اسلامی کیلکولیٹر

فقہِ حنفی کی روشنی میں میراث و زکوٰۃ کا حساب

اسلامی اصولِ فرائض کے مطابق ترکہ کی تقسیم — اصحابِ فرائض، عصبات اور ذوی الارحام سمیت

۱ ترکہ اور میت

کل جائیداد وہ رقم ہے جو تجہیز و تکفین، قرض اور وصیت (ثلث تک) نکالنے کے بعد بچے۔

یہ رقم میت کے کفن دفن کے اخراجات، قرض، اور وصیت (زیادہ سے زیادہ ایک تہائی) نکالنے کے بعد جو مال بچے وہ ہونی چاہیے۔ اسی باقی ماندہ مال پر میراث تقسیم ہوتی ہے۔

۲ ورثاء کا انتخاب

جو رشتہ دار میت کے انتقال کے وقت زندہ تھے انہیں آن کریں اور تعداد لکھیں (بعد میں فوت ہونے والے وارث کا حصہ بھی نکلتا ہے)۔ محجوب (محروم) رشتہ داروں کا حساب خودکار ہوگا۔

تقسیمِ ترکہ

وارثحصے (سہام)فیصدرقم

فقہِ حنفی کے مطابق زکوٰۃ کا حساب — نقدی، سونا، چاندی، مالِ تجارت اور قرض سمیت

۱ نصاب کی قیمتیں

جس دن آپ کا زکوٰۃ کا سال (قمری) مکمل ہوا، اُس دن کے مطابق فی تولہ سونے اور چاندی کی قیمت لکھیں (روپے میں)۔ نصاب انہی سے شمار ہوگا۔

نصاب: سونا ساڑھے سات (7.5) تولہ، چاندی ساڑھے باون (52.5) تولہ۔ اگر کسی کے پاس سونا یا چاندی کے ساتھ نقدی یا مالِ تجارت بھی ہو، تو چاندی کے نصاب کا اعتبار ہوتا ہے (یہ غریب کے حق میں بہتر ہے)۔ زکوٰۃ کی شرح چالیسواں حصہ یعنی 2.5% ہے۔

۲ سونا و چاندی

ہر قسم کا سونا و چاندی (زیورِ استعمال سمیت)۔

زیور، سکے، بسکٹ — خواہ استعمال میں ہو یا نہ ہو
زیور، برتن، سکے

۳ نقدی و کرنسی (روپے)

مقامی و غیر ملکی کرنسی، قمری سال مکمل ہونے کی تاریخ کے ریٹ کے مطابق۔ (سود کی رقم شامل نہ کریں۔)

مقامی و غیر ملکی نقدی، قمری سال مکمل ہونے کی تاریخ کے ریٹ پر
بینک بیلنس (سود کی رقم نکال کر)
پرائز بانڈز کی مالیت
اس کی زکوٰۃ ادا کرنا فوراً واجب نہیں — چاہیں تو فوراً ادا کر دیں، یا جب یہ رقم واپس ملے (یا نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو) تب ادا کریں۔ وصول ہونے پر ادا کرنے کی صورت میں پچھلے تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
کمیٹی/بی سی میں آپ کی جمع شدہ رقم (جو ابھی آپ کو نہیں ملی)۔ اس کی زکوٰۃ ادا کرنا فوراً واجب نہیں — چاہیں تو فوراً ادا کر دیں، یا جب یہ رقم واپس ملے (یا نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو) تب ادا کریں۔ وصول ہونے پر ادا کرنے کی صورت میں پچھلے تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
جو قرض آپ نے دوسروں کو دیا اور واپسی کی امید ہو، یا آپ کے پاس قرض کے گواہ ہوں۔ اس کی زکوٰۃ ادا کرنا فوراً واجب نہیں — چاہیں تو فوراً ادا کر دیں، یا جب یہ رقم واپس ملے (یا نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو) تب ادا کریں۔ وصول ہونے پر ادا کرنے کی صورت میں پچھلے تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔

۴ مالِ تجارت (روپے)

وہ سامان جو خالصتاً بیچنے کی نیت سے خریدا یا بنایا ہو، قمری سال مکمل ہونے کی تاریخ کی بازاری قیمت پر۔

فیکٹری/کاروبار کا خام مال (raw material) — قمری سال مکمل ہونے کی تاریخ کے ریٹ پر
تیار شدہ مال، دکان کا اسٹاک — قمری سال مکمل ہونے کی تاریخ کے ریٹ پر
وہ پراپرٹی جو بیچنے (تجارت) کی نیت سے خریدی ہو — قمری سال مکمل ہونے کی تاریخ کے ریٹ پر
شراکت (پارٹنرشپ) میں آپ کے حصے کے قابلِ زکوٰۃ اثاثے

۵ واجبات (منہا ہوں گے)

وہ رقمیں جو آپ کے ذمہ واجب الادا ہیں — یہ کل مال سے نکال دی جائیں گی۔

لیا ہوا قرض جو واپس کرنا ہے
مکان/دکان/چیزوں کی وہ قسطیں جو ذمہ واجب ہیں
اگر کمیٹی کی پوری رقم وصول کر چکے ہیں تو جو اقساط باقی دینی ہیں
وہ بل جو سالِ زکوٰۃ مکمل ہونے سے پہلے آ چکے ہوں
کاروبار میں ڈیلرز/سپلائرز کو دینے والی رقم
ملازمین کی وہ تنخواہیں جو ذمہ واجب ہیں
گزشتہ سال کی وہ زکوٰۃ جو ابھی ادا نہیں ہوئی

زکوٰۃ کا حساب

تفصیلمالیت (روپے)